قر آن کی روشنی میں :

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا ایْ ،جَوِّدُ الْقُرْآنَ تَجْوِیْدًا(بیضاوی)

ترجمہ:قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو یعنی قرآن کو تجوید کے ساتھ پڑھو۔

حضرت علی کر م اللہ وجہہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ منقول ہے: 

التَرْتِیْلُ ھُوَ تَجْوِیْدُ الْحُرُوْفِ وَمَعْرِفَةُ الْوُقُوفِ(الاتقان)

یعنی( ترتیل نام ہے حروف کو تجوید کے ساتھ اداکر نے کا اور وقوف کے محل کو پہچاننےکا ) 

حدیث مبا رکہ کی روشنی  میں :

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ اَنْ یُّقْرَاَ الْقُرْآنُ کَمَا اُنْزِلَ 

ترجمہ:(بے شک اللہ تعالی اس بات کوپسند فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح وہ نا زل کیا گیا ہے )کہ اللہ تعالی کے حکم اور رسول اللہ کے ارشادات کی بنا پر ائمہ اسلام اور فقہائے امت نے بھی علم تجوید کے حاصل کرنے ا ور اس کے مو افق قرآن مجید کی تلاو ت کرنے کو ضروری قرار دیا۔

چناچہ امام جزری ؒ فرما تے ہیں:

وَالْاَخْذُ باِلتَّـجْوِیْد حَتْـــمٌ لَازِم

مَنْ لَــمْ یُجَــوِّدُ الْقُرْأٰنُ آثِـــم

ترجمہ :علم تجوید کے موافق قرآن مجید پڑھنا نہایت ضروری ہے جو شخص قرآن کو تجوید کے ساتھ نہ پڑھے وہ گناہ گارہے ۔

لِانّـــــهُ بِهٖ الاِلٰهٌ انْــزَلا

وَھَکَذَا مِنْهُ إِلِینَا وَصَلا

ترجمہ:تجوید کے ساتھ پڑھنا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ نازل  فرمایا اور ہم تک بھی تجو ید کے ساتھ ہی پہنچاہے ۔

اس شعر کی تشریح جو ملاعلی قاری ؒنے فرمائی :

وَاَخْذُ الْقَارِی بِتَجْوِیْدِ الْقُرْاٰنِ ھُوْ تَحْسِیْنُ اَلْفَاظِهٖ ۔۔۔إلی الخ 

یعنی قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنا اس کے حرفو ں کو ان کے مخارج اصلیہ سے نکالنا اور ان کی صفا ت کو اداکر نا 

پھر فرمایا:

 ھٰذَاالْعِلْمُ لَاخِلَافَ  فِیْہِ اَنّهُ فَرضٌ کِفَایَةٌ وَالْعَمَلُ بِهٖ فَرْضٌ عَیْنٌ

یعنی اس میں ذرابھی اختلاف نہیں کہ علم تجوید کا حاصل کرنافرض کفایہ ہےاور اس کےموافق قرآن مجید پڑھنا فرض عین ہے۔

فقہائے کرام نے بھی قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے اور لکھا ہے کہ قرآن مجید کو صحیح پڑھنے کے لیے اس وقت تک کو شش کرنا واجب ہے جب تک کہ قرآن کے الفاظ درست نہ ہو جائیں ۔ اور فقہا ئے کرام نے اس بات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے کہ نماز صحیح ہونے کے لیے قرآن مجید کا صحیح پڑھنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص حروف کو صحیح ادا کرنے کی کوشش نہیں کرے گااور حروف قرآنیہ کو غلط سلط ادا کرتا رہا وہ گناہگا ر ہو گا اور اس کی نما ز نہ ہو گی ۔ فقہ کی بڑی بڑی کتابوں میں باب ذلۃ القاری کے تحت یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ موجو د ہے ۔